تلخ نوائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ناگوار باتیں، جلی کٹی باتیں؛ خراب آواز ہونا۔ "موہن نے بھی عاجز ہو کر ان تلخ نوائیوں کی پروا کرنا چھوڑ دیا ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٤٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت 'تَلْخ' کے ساتھ 'نَوا' فارسی ہی سے اسم لگایا گیا اس طرح یہ مرکب توصیفی بنا۔ جس کے آخر پر 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٦٩ء کو غالب کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ناگوار باتیں، جلی کٹی باتیں؛ خراب آواز ہونا۔ "موہن نے بھی عاجز ہو کر ان تلخ نوائیوں کی پروا کرنا چھوڑ دیا ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٤٠ )

جنس: مؤنث